خدا تنہا

خدا تنہا کیوں ہے؟

ایسا کیوں ہے کہ وہ تنہائی میں ہی میسر آتا ہے اور مجھے اکیلا پا کر نروار ہوجاتا ہے۔

وہ مجھے مسجدوں مندروں گرجائوں میں کبھی نہیں دکھا۔۔ ہاں خدائی نرم مزاج رکھنے والے لوگ ضرور ملے پر خدا نہیں۔

وہ مجھے تنہائی میں، صحرائوں میں، جھیلوں کے آس پاس، پھاڑوں میں اور وادیوں میں ہی کیوں محسوس ہوتا ہے؟

آج اس پھاڑی سلسلے میں آکر خدا شدت سے محسوس ہوا۔ میرا دل ان پھاڑوں میں اسے سجدہ کرنا چاہتا ہے؟

ایسا کیوں ہے کہ تنہائی میں وہ میرے سامنے ہوتا ہے؟ میں اسے محسوس کرتا ہوں، اس سے بات کرتا ہوں، وہ مجھے میرے سامنے عیاں نظر آتا ہے۔۔

کیا خدا کو بھی تنہائی پسند ہے؟

کیا وہ بھی لوگوں کہ ہجوم سے کتراتا ہے؟ کیا وہ بھی وادیوں، صحرائوں، سمندروں اور جھیلوں میں رہتا ہے؟

ان پھاڑوں کہ درمیاں جیسے سارے حائل پردے اٹھ گئے ۔ مجھے یہ پتھریلے پھاڑ طور لگنے لگے۔ جلوہ جاناں ہو اور سر بسجود نہ ہونا مانگتا ہو،ایسا ممکن نہیں دل کو از خود پیشانی مٹی میں ملانے کی چاہ ہوئی۔

لیکن میرا وضو؟

مٹی سے وضو!!

لیکن مجھے نہیں پتا تیمم کیسے کرتے ہیں؟

تیمم- بس دل کیا کہ مٹی اٹھا کر چھرے پہ مل دوں۔ میں مٹی ہی تو ہوں، مینے دونوں ہاتھ مٹی میں بھر دیئے ، ریتیلی پھتریلی مٹی، دونوں ہاتھ مٹھیاں بھر مٹی اٹھائی اور چھرے پہ مل دی۔ مٹی اٹھاتا جاتا چھرے پر پھینکتا جاتا، کنکر ریت زرات، چھن چھن کر چھرے سے گرتے رہے، مٹی میرا ماتھا مٹی میری پلکیں مٹی میرے ہونٹ، مٹی کی خوشبو سے اڑ گئے اور ساتھ ہی میری آنکھیں ابل پڑی، مٹی کے ساتھ آنسوں بھی گرتے جاتے تھے، میں مٹی ملتا جاتا تھا اور روتا جاتا ،ہجکیوں کہ ساتھ۔

تیری اوقات ، تیری اوقات، یہی ہے تیری اوقات، کہیں اندر سے چینخیں سنائی دیں ، یہی مٹی ہے تیری اوقات !!

یا خدا ،یا خدا، اے میرے مولا، ہاں مولا یہی ہے میری اوقات، یہی مٹی ہے میری اوقات۔ میں مٹی میں مل گیا، خد کو مٹی کر لینے کہ بعد اسی پتھراسی زمین پہ سجدہ زیر ہوگیا۔

پتھروں پہ سجدہ، ویسے خوبصورت مسجدوں میں نرم مصلے پہ مزا نہیں آتا آج پتھریلی مٹی پہ سجدے سے اٹھنے کا من نہیں تھا۔۔

کاش کہ اس سجدے سے اٹھوں اور تو سامنے آجائے- کاش کہ یہ مٹی مجھے مناسب آجائے۔۔

“جلوہ گاہ ناز کے پردوں کا اٹھنا یاد ہے
ہوا پھر کیا، اور کیا دیکھا، یہ کس کو ھوش ہے”

لیکن جسم کہان برداشت کرسکتا تھا نوکیلے پتھر، پیشانی درد سے بھر گئی، سجدے سے اٹھ کر واپس اس دنیا میں آنا پڑا۔ خدا سے ملاقات تمام ہوئی۔

جسم کی نرمی آڑے آگئی۔ گھیلا تو مینے بھی خوب کیا پتھروں کو مگر سحرائی پتھر کہاں نم ہونے!!

واپس آنا پڑا خدا کو وہیں تنہا چھوڑ کر۔

“ایسی بھی کچھ فراق کی گھڑیاں میسر ہوئیں

انکو بٹھا کہ پیش نظر دیکھتے رہے”۔

شاھد
راس خیمہ- عمارات

10-4- 2019